منگلورو ، 4 ؍ جون (ایس او نیوز) شہر کے ہمپن کٹا میں واقع منگلورو یونیورسٹی کالج میں حجاب کا تنازعہ جو اٹھا ہے اس تعلق سے متاثرہ طالبات نے مذہبی قائدین سے حمایت طلب کی ہے ۔ منگلورو یونیورسٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر ریاض کی موجودگی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرہ طالبات میں سے ایک غوثیہ نامی طالبہ نے بتایا کہ اس کالج میں ہم پہلے سے ہی حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہی تھیں ۔ یہاں کوئی یونیفارم کوڈ لاگو نہیں تھا ۔ ہم یونیفارم کے دو پٹے کو ہی سر پر حجاب بنا لیتے تھے ۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی وہ حجاب پہن کر ہی کالج میں حاضر ہو رہی تھیں ۔ اس پر کسی نے اعتراض بھی نہیں کیا تھا اور نہ حجاب اتارنے کا حکم دیا تھا ۔ پھر اے بی وی پی والوں کے دباو میں آ کر پرنسپال نے حجاب اتار کر کلاس روم میں حاضر رہنے کا حکم دیا تھا ۔ ہم لوگ واپس آ کر لائبریری میں بیٹھ گئے ۔ پھر وہاں سے بھی ہم کو باہر کرتے ہوئے کالج میں بھی حجاب کے ساتھ داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی ۔
غوثیہ کا کہنا تھا کہ اس طرح ہمارے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ۔ اس لئے مذہبی قائدین ہماری حمایت کے لئے آگے آئیں ۔ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر ریاض نے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے دو مہینے بعد تک اس کالج میں حجاب کا کوئی مسئلہ نہیں رہا تھا ۔ اے بی وی پی کے دباو میں یہ تنازعہ حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا ہے۔ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ اگر ضلع انتظامیہ نے دو دن کے اندر یہ مسئلہ حل نہیں کیا تو یونیورسٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے ضلع بھر میں زبردست احتجاجی مظاہرا کیا جائے گا ۔
ریاض نے مزید یہ بھی کہا کہ اپن انگڈی کالج کے پرنسپال نے جن 6 طالبات کو معطل کیا ہے اگر وہ طالبات ہم سے رابطہ قائم کریں گی تو ہم ان کی حمایت میں کھڑے ہونگے ۔